فرقان کے معنی
فرقان کے معنی ہیں حق و باطل، توحید و شرک اورعدل و ظلم کے درمیان فرق کرنے والا، اس قران نے کھول کر ان امور کی وضاحت کر دی ہے اس لیے اسے فرقان سے تعبیر کیا گیا ہے ـ
تعارف
سورة الفرقان مکمل مکہ میں اتری اسلیے سورہ فرقان مکیّ ہے۔ قرآن مجید کے اٹھارویں پارے کے آخر سے شروع ہو کر انیسویں پارے میں ختم ہوتی ہے۔ اس میں 4 رکوع ستتر آیتیں ہیں۔ سورہ کا نام اسکی پہلی آیت کے لفظ “الفرقان” پر رکھا گیا ہے۔
تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا
بہت برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے پر فیصلہ کرنے والی (کتاب) اتاری، تاکہ وہ جہانوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی ﷺکی نبوت عالم غیر ہے اورآپ تمام انسانوں اورجنوں کے لیے ہادی اوررہنما بنا کر بھیجے گئے ہیں ،جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا؎ قُلْ يَاتهَا النَّاسُ إِن رَسُولُ اللهِ الكُمْ جَمِيعًا (اعراف 106)
“حدیث میں بھی فرمایا بُعِثْتُ إِلَى الأَحْمَرِ وَالأَسْود “مجھے احمرواسود سب کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہے
صحيح مسلم كتاب المساجد
” پہلے نبی کسی ایک قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اورمیں تمام لوگوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا پھرارشاد ہوا کہ اس پاک کتاب کا آپ کی طرف اترنا اس لیے ہے کہ آپ تمام جہان کے لیے آگاہ کرنے والے بن جائیں، ایسی کتاب جو سراسرحکمت وہدایت والی ہے۔ جومفصل، مبین اورمحکم ہے۔ جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا۔ جو حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتاری ہوئی ہے ہوں”۔
آپ اس کی تبلیغ دنیا بھرمیں کر دیں، ہرسرخ و سفید کو، ہردورونزدیک والے کو اللہ کے عذابوں سے ڈرا دیں، جو بھی آسمان کے نیچے اورزمین کے اوپر ہے اس کی طرف آپ کی رسالت ہے۔
رسالت و نبوت کے بعد توحید کا بیان کیا جا رہا ہے۔ یہاں اللہ کی چار صفات بیان کی گئی ہیں۔
ـ وہ ذات کہ اسی کے لیے آسمانوں اورزمین کی بادشاہی ہے (یعنی کائنات میں متصرف صرف وہی ہے، کوئی اورنہیں
ـ اوراس نے نہ کوئی اولاد بنائی (اوراس میں نصاری ، یہود اور بعض ان عرب قبائل کا رد ہے جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے
ـ اورنہ کبھی بادشاہی میں کوئی اس کا شریک رہا ہے (اس میں صنم پرست مشرکین اور ثنویت دو خداؤں شر اور خیرظلمت اور نور کے خالق کے قائلین کا رد ہے
ـ اوراس نے ہرچیزکو پیدا کیا، پھر اس کا اندازہ مقرر کیا، پورا اندازہ۔ (ہر چیز کاخالق صرف وہی ہے اوراپنی حکمت و مشیت کے مطابق اس نے اپنی مخلوقات کو ہروہ چیز بھی مہیا کی ہے جو اس کے مناسب حال ہے یا ہرچیز کی موت اور روزی ااس نے پہلے سے مقرر کردی ہےـ
خود فریب مشرکین کی حماقتیں اوران کے جوابات
اوران لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ نہیں ہے مگرایک جھوٹ، جواس نے گھڑ لیا اورکچھ دوسرے لوگوں نے اس پراس کی مدد کی
مشرکین کہتے تھےکہ محمد ﷺ نے یہ کتاب گھڑنے میں یہود سے یا ان کے بعض موالی (مثلا ابواہ فکہیہ یسارو بشریت ، عداس اورجبروغیرہم سے مدد لی ہے) یہاں قرآن نے اس الزام کو ظلم اورجھوٹ سے تعبیر کیا ہے ، بھلا ایک امی شخص دوسروں کی مدد سے ایسی کتاب پیش کرسکتا ہے جو فصاحت وبلاغت اوراعجازکلام میں بے مثال ہو، حقائق ومعارف بیانی میں بھی معجزنگارہوانسانی زندگی کے احکام و قوانین کی تفصیلات میں بھی لاجواب ہواوراخبارماضیہ اور مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کی نشاندہی اوروضاحت میں بھی اس کی صداقت مسلم ہو۔
یہ ان کے جھوٹ اورافترا کے جواب میں کہا کہ قرآن کو تو دیکھو اس میں کیا ہے ؟ کیا اس کی کوئی بات غلط اورخلاف واقعہ ہے؟ یقینا نہیں ہے۔ بلکہ ہربات بالکل صحیح اورسچیّ ہے، اس لیے کہ اس کو اتارنے والی ذات وہ ہے جو آسمان وزمین کی ہر پوشیدہ بات کو جانتا ہے۔
اور انھوں نے کہا اس رسول کو کیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے
قرآن پر طعن کرنے کے بعد رسول پر طعن کیا جا رہا ہے اوریہ طعن رسول کی بشریت پر ہے۔ کیوں کہ ان کے خیال میں بشریت ، عظمت رسالت کی متحمل نہیں۔ اس لیے انہوں نے کہا کہ یہ تو کھاتا پیتا اوربازاروں میں آتا جاتا ہے۔ اورہمارے ہی جیسا بشرہے۔ حالانکہ رسول کوتوبشرنہیں ہونا چاہیے۔ مذکورہ اعتراض سے نیچے اتر کر کہا جا رہا ہے کہ چلو کچھ اورنہیں توایک فرشتہ ہی اس کے ساتھ ہوتا جواس کا معاون اورمصدق ہو۔
تا کہ طلب رزق سے وہ بے نیاز ہوتا۔
تاکہ اس کی حیثیت تو ہم سے کچھ ممتاز ہو جاتی۔
یعنی جس کی عقل و قسم سحر زدہ اور محمل ہے۔
کافراس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ نبی کو کھانے پینے اورتجارت بیوپار سے کیا مطلب؟ اس کا جواب ہو رہا ہے کہ اگلے سب پیغمبربھی انسانی ضرورتیں بھی رکھتے تھے، کھانا پینا ان کے ساتھ بھی لگا ہوا تھا۔ بیوپار، تجارت اورکسب معاش وہ بھی کیا کرتے تھے۔ یہ چیزیں نبوت کے خلاف نہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنی عنایت خاص سے انہیں وہ پاکیزہ اوصاف، نیک خصائل، عمدہ اقوال، مختار افعال، ظاہر دلیلیں، اعلیٰ معجزے دیتا ہے کہ ہرعقل سلیم والا، ہردانا بینا مجبور ہوجاتا ہے کہ ان کی نبوت کو تسلیم کر لے اوران کی سچائی کو مان لے۔
اس کی طرف کوئی خزانہ اتارا جاتا، یا اس کا کوئی باغ ہوتا جس سے وہ کھایا کرتا
یعنی یہ آپ کے لیے جو مطالبے کرتے ہیں، اللہ کے لیے ان کا کر دینا کوئی مشکل نہیں ہے وہ چاہے تو ان سے بہتر باغات اور محلات دنیا میں آپ کو عطا کر سکتا ہے جو ان کے دماغوں میں ہیں۔ لیکن ان کے مطالبے تو تکذیب و عناد کے طور پر ہیں نہ کہ طلب ہدایت اور تلاش نجات کے لیے ـ
اور ظالموں نے کہا تم تو بس ایسے آدمی کی پیروی کر رہے ہو جس پر جادو کیا ہوا ہے
یعنی اے پیغمبر! آپ کی نسبت یہ اس قسم کی باتیں اور بہتان تراشی کرتے ہیں، کبھی ساحر کہتے ہیں، کبھی محسور و مجنون اور کبھی کذاب و شاعر، حالانکہ یہ ساری باتیں باطل ہیں اور جن کے پاس ذرہ برابر بھی عقل و فہم ہے، وہ ان کا جھوٹا ہونا جانتے بیں یہ ایسی باتیں کر کے خود ہی راہ ہدایت سے دور ہو جاتے ہیں، انہیں راہ راست کس طرح نصیب ہو سکتی ہے؟
تصدیق نبوت کے لئے احمقانہ شرائط
اور ان لوگوں نے کہا جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے، ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے، یا ہم اپنے رب کو دیکھتے؟
یعنی کسی انسان کو رسول بنا کر بھیجنے کے بجائے، کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجا جاتا۔ یا یہ مطلب ہے کہ پیغمبر کے ساتھ فرشتے بھی نازل ہوتے ، جنہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور وہ اس بشر رسول کی تصدیق کرتے.
یعنی رب آکر ہمیں خود کہتا کہ محمد ﷺ میرا رسول ہے اور اس پر ایمان لانا تمہارے لیے ضروری ہےـ
اسی استکبار اور سرکشی کا نتیجہ ہے کہ وہ اس قسم کے مطالبے کر رہے ہیں جواللہ تعالی کی منشا کے خلاف ہے اللہ تعالی تو ایمان بالغیب کے ذریعے سے انسانوں کو آزماتا ہے۔ اگر وہ فرشتوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے اتار دے یا آپ زمین پر نزول فرمالے تو اس کے بعد ان کی آزمائش کا پہلوہی ختم ہو جائے اس لیے اللہ تعالی ایسا کام کیوں کر سکتا نے جو اس کی حکمت تخلیق اور مشیت تکوینی کے خلاف ہے؟
یہ کافر فرشتوں کو دیکھنے کی آرزو تو کرتے ہیں لیکن موت کے وقت جب یہ فرشتوں کو دیکھیں گے تو ان کے لیے کوئی خوشی اور مسرت نہیں ہوگی اس لیے کہ فرشتے انہیں اس موقع پر عذاب جہنم کی وعید سناتے ہیں اور کہتے ہیں اے خبیث روح خبیث جسم سے نکل جس سے روح دوڑتی اور بھاگتی ہے جس پر فرشتے اسے مارتے اور کوٹتے ہیں ـ
سورۃ الفرقان کی روشنی میں رحمن کے بندوں کی خصوصیات درج ذیل ہیں۔
تواضع وانکساری
وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ
اوررحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی سے چلتے ہیں ـ
رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم روی سے چلتے ہیں۔ “ یعنی تکبراوراکڑ کر نہیں چلتے بلکہ عاجزی اور انکساری سے چلتے ہیں” ۔ انکی رفتار میانہ اوراندازعاجزانہ ہوتا ہے ہرانسان کے چلنے کا انداز اسکی سیرت و کردار کی جھلک ہوتا ہے۔ متکبر کی چال اورشریف النفس ، منکسرالمزاج کی چال میں بہت فرق ہوتا ہے ہرآدمی چال دیکھ کرکسی بھی شخص کےبارے میں اندازہ لگا سکتا ہے ـ
لہذا یہاں عباد الرحمن فرمانے میں بڑی شفقت محبت عنایت اوراتفات کے پہلو مضمرہیں ۔ مراد وہ لوگ ہیں جوواقعی اللہ کے بندے ہیں ان کی چال ڈھال سے نمایاں ہوتا ہے کہ یہ اپنے آپ کو بندہ ہی سمجھتے ہیں آقا نہیں سمجھتے ۔ یہ اپنے آپ کو مخلوق سمجھتے ہیں اوراپنے مالک اپنے آقا کو پہچانتے ہیں ۔ چنانچہ ان کی چال گواہی دیتی ہے کہ فخروغرور کے بجائے ان میں معجز وفروتنی کے احساسات وجذ بات جاگزیں ہیں ـ
ہٹ دھرمی کے جواب میں طرز عمل
وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا
اورجب جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام ہے۔
اس آیت میں دوسرا وصف بیان ہوا ہے اورجب جامل ان سے مخاطب ہوتے ہیں (اور ان سے الجھنا چاہتےہیں ) تو وہ سلام کہہ دیتے ہیں (اوراس طرح ان سے علیحدہ ہو جاتے ہیں) ۔ یہ بھی درحقیقت انسان کی شخصیت کی پیشی کی ایک بہت بڑی علامت ہے۔ بعض لوگ اپنے جذبات سے مغلوب ہو کر لوگوں سے بے کا ری بحث و تخصیص میں الجھ جاتے ہیں حالانکہ اس طرح کی بحث و مباحث کا حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ ایک پختہ اندازہ کرے کہ اس کا مخاطب اس وقت بات سمجھنے کے موڈ میں ہے یا بحث ونزاع پر تلا ہوا ہے۔ اوراگروہ یہ محسوس کرے کہ یہ شخص اس وقت افہام وتفہیم کے موڈ میں نہیں ہے یہ میری بات کو سنجیدگی سے نہیں سن رہا بلکہ ضد اور عنا دمیں مبتلا ہو چکا ہے اس وقت اس پر ہٹ دھرمی مسلط ہو چکی ہے یہ خواہ مخواہ مجھ سے الجھ رہا ہے بات کو سمجھنا اس کے پیش نظر سرے سے سے ہی نہیں تو بڑی خوبصورتی سے سلام کہ کراس سے علیحدہ ہو جاتے ہیں ۔
قیام اللیل کا اہتمام
وَالَّذِينَ يَعُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَا مَا
اورجوراتیں بسر کرتے ہیں اپنے رب کے حضور میں سجدہ کرتے ہوئے
رات اللہ کی عبادت اوراس کی اطاعت میں بسر ہوتی ہے، بہت کم سوتے ہیں۔ صبح کو استغفار کرتے ہیں، کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ امید رحمت کی ہوتی ہے اورراتوں کی گھڑیوں کو اللہ کی عبادتوں میں گزارتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ! عذاب جہنم ہم سے دوررکھ، وہ تو دائمی اورلازمی عذاب ہے۔
عذاب جہنم سے بچاؤ کی دعا
رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا
اوروہ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہم سے جہنم کا عذاب پھیر دے
اس کے بعد فر مایا کہ اپنے رب کے سامنے اس قیام اللیل کے نتیجہ میں جو دعا مانگتے ہیں دل سے نکل کر زبان پر آتی ہے وہ یہ ہے کہ اے رب ہمارے جنم کی سزا ہم سے دور کر دے ہمیں اس سےبچا ۔ اس میں درحقیقت اس طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ جہاں مخلوق کے سامنےانکی روش تواضع اورفروتنی کی ہوتی ہے وہاں وہ اپنے رہنے کے سامنے بھی نہایت عاجزی کا انداز اختیارکرتے ہیں ۔ انہیں اپنی نیکی پرکوئی فخر یا غرورنہیں ہوتا ۔ وہ کسی زحم یا گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہوتے بلکہ ان کو ہمیشہ یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ نہ معلوم ہمارے اعمال اللہ تعالی کے یہاں قبول ہو ر ہے ہیں یا نہیں لہذا ان پرایک لرزہ طاری رہتا ہے ـ
اخراجات میں میانہ روی
وَالَّذِينَ إِذَا اتَّفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَفْتَرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ فَوَانًا
اوروہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ خرچ میں تنگی کرتے ہیں اور (ان کا خرچ) اس کے درمیان معتدل ہوتا ہے ـ
وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں۔ بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے۔ میانہ روی اختیار کرنا بھی شخصیت کی پختگی اوربالغ نظری کی علامت ہے۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ اگرایک وقت ہاتھ کشادہ ہے تو انسان فضول خرچی میں پیسہ اوڑا دے اگر کسی وقت تنگی ہوگئی ہوتوانسان بالکل بجھ کررہ جائے اورنہ ایسا ہو کہ جہاں خرچ کرنا لا زمی اورضروری ہو وہاں وہ ہاتھ روک لئے یہ بخیلی ہے۔ ان تین رویوں کے بجائے ایک بین مین اورمعتدل روش اختیار کرنا ایک اعلی وارفع وصف ہے ۔ لہذا فرمایا وہ لوگ جو جب خرچ کرتے ہیں تونہ اسراف سے کام لیتے ہیں نہ بخیلی سے کام لیتے ہیں، بلکہ ان کا طرزعمل اس کے بین بین ہوتا ہے۔ یہاں چال وڈھال میں بھی اعتدال مراد ہے اورخرچ میں بھی ـ
کبیرہ گناہوں سے اجتناب
وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا
اوروہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اورنہ اس جان کو قتل کرتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو یہ کرے گا وہ سخت گناہ کو ملے گا۔
اوروہ لوگ جو نہیں پکارتے اللہ کے سوا کسی اورمعبود کواورنہ وقتل کرتے ہیں کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہر ایا ہو مگر حق کے ساتھ اور نہ ہی وہ زنا کرتے ہیں اورجو کوئی یہ کام کرے گا وہ اس کی پاداش میں دوگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب کو قیامت کے دن اوروہ رہے گا اس میں ہمیشہ ہمیش نہایت ذلیل وخوارہوکر،ان مثبت اوصاف اورمثبت اقدار کے ذکرکرنے کے بعد جو اللہ تعالی کو پسند ہیں جن سے ایک بندہ مومن کی شخصیت میں دل آویزی اورجاذبیت پیدا ہوتی ہے اورجو ایک مومن کی شخصیت کی پختگی کیعلامات ہیں۔ اب ان آیات میں وہ اندازبیان ہے۔ یعنی عبادالرحمن میں یہ چیزیں بالکل نہیں ہوتیں وہ ان چیزوں کےقریب بھی نہیں بھٹکتے۔
ایک آیت میں کہ ان میں سے درجہ بدرجہ تین سب سے بڑے گنا ہوں کا ذکر ہے۔
اكبرالكبائر
سب سے کبیرہ گناہ اورعظیم ترین گنا ہ جس کے بارے میں سورۃ النساءمیں دو مرتبہ یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں بے شک اللہ اس کو تو ہرگزمعاف نہیں فرمائے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شرک کیا جائے اوراس سے کمتر جس کے لیے چاہے گا معاف فرمادے گا۔ گویا قرآن مجید کی رو سے ہمار ے دین میں سب سےبڑاجرم اورقطعی نا قابل معافی گناہ شرک ہے ـ
شرک کی اقسام
ایک شرک ہے شرک فی الذات ۔ یعنی اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا۔ اور ایک شرک وہ ہے جو اللہ کی صفات کے ضمن میں ہے یعنی شرک فی الصفات اور تیسر ا شرک ہے شرک فی العبادت ۔
چنانچہ آغازمیں سب سے پہلے تو اُسی کا ذکر ہوا۔ اس لیے کہ در حقیقت شرک سے انسان کا نقطہ نظرغلط ہوجاتا ہے۔ گویا پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی لگ گئی تو اس کے بعد اس کا جو نتیجہ نکلے گا وہ ظاہر ہے کہ پھر تو کجی ہی کجی ہوگی۔ انسان کی اپنی ذاتی سیرت میں بھی کجی ہوگی۔ ایسے لوگوں پر مشتمل جو معاشرہ وجود میں آئے گا وہ بھی کج ہوگا ۔ لہذا یہاں سب سے پہلے شرک کا ذکر ہوا۔
قتل ناحق
اَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ
اورجو نہ قتل کرتے ہیں کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہےمگر حق کے ساتھ۔ ـ
اس کا تعلق انسانی جان کے احترام سے ہے۔ یہ بات جان لیجیے کہ شرک کے بعد سب سے بڑا گنا وقتل عمد ہے اس لیے کہ اس سے تمدن کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ انسان ایک متمدن حیوان ہے تمدن کی بنیا دمل جل کر رہنا ہے۔ تہذیب تمدن اورحضارت مل جل کر رہنے سے ہی وجود میں آتی ہے اوراس کی جزاور بنیاد یہ ہے کہ انسان ایک دوسرے کی جانوں کا احترام کریں۔ اگراحترام جان ہی ختم ہو گیا تو گو یا تمدن کی اساس ہی منہدم ہوگئی۔ لہذا تہذیب و تمدن کی بقا کے لیے لازم ہے کہ معاشرے کے اندر احترام جان کا پورا پورا اہتمام والتزام رہے۔ اللہ تعالی نے انسانی جان کو بہت محترم ٹھہرایا ہےـ
Contents
- فرقان کے معنی
- تعارف
- رسالت و نبوت کے بعد توحید کا بیان کیا جا رہا ہے۔ یہاں اللہ کی چار صفات بیان کی گئی ہیں۔
- خود فریب مشرکین کی حماقتیں اوران کے جوابات
- اور انھوں نے کہا اس رسول کو کیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے
- اس کی طرف کوئی خزانہ اتارا جاتا، یا اس کا کوئی باغ ہوتا جس سے وہ کھایا کرتا
- اور ظالموں نے کہا تم تو بس ایسے آدمی کی پیروی کر رہے ہو جس پر جادو کیا ہوا ہے
- تصدیق نبوت کے لئے احمقانہ شرائط
- سورۃ الفرقان کی روشنی میں رحمن کے بندوں کی خصوصیات درج ذیل ہیں۔
- تواضع وانکساری
- ہٹ دھرمی کے جواب میں طرز عمل
- قیام اللیل کا اہتمام
- عذاب جہنم سے بچاؤ کی دعا
- اخراجات میں میانہ روی
- کبیرہ گناہوں سے اجتناب
- اكبرالكبائر
- شرک کی اقسام
- قتل ناحق